وفاقی حکومت نے توانائی کے بحران کے پیش نظر اخراجات میں کمی کے لیے اہم فیصلے کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم ماڈل متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی اور ایندھن کی مد میں اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے تناظر میں یہ فیصلے کیے گئے ہیں۔ نئے شیڈول کے تحت سرکاری دفاتر اب پیر سے جمعرات تک کھلے رہیں گے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہوگی۔
ہسپتال، بینک، صنعت اور زراعت جیسے ضروری شعبے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ دیگر سرکاری محکموں میں عملے کی حاضری کو پچاس فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق نصف عملہ دفتر میں جبکہ بقیہ پچاس فیصد گھر سے کام کرے گا۔ پیر اور منگل کو ایک گروپ دفتر میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے گا، جبکہ بدھ اور جمعرات کو دوسرے گروپ کی حاضری یقینی بنائی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ورک فرام ہوم ماڈل کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس نئے نظام کا اطلاق کل بروز بدھ سے اہم وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں میں کر دیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…