مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عدالت نے دخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو تاحیات قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالتی فیصلے میں آسیہ اندرابی کو انسداد غیر قانونی سرگرمیوں کے ایکٹ اور بھارتی پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ آسیہ اندرابی اپریل 2018 سے حراست میں ہیں۔ بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ان پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور ریاست مخالف اقدامات پر اکسانے کا الزام عائد کیا تھا اور ان کے لیے سخت ترین سزا کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے آسیہ اندرابی کی قریبی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی 30، 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ دخترانِ ملت کی بنیاد آسیہ اندرابی نے 1987 میں رکھی تھی اور وہ طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی حقوق کے حصول کے لیے سرگرم رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر مبنی اور متنازع ہے، جس میں شفاف عدالتی عمل کے تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…