ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد پینٹاگون کی جانب سے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت سے واقف دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی عسکری قیادت اس تعیناتی کی تیاری کر رہی ہے۔
منصوبہ بندی سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق اس تعیناتی میں کمانڈ ایلیمنٹ کے علاوہ زمینی فوج کے کچھ دستے بھی شامل ہوں گے۔ اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ اس تعیناتی کی تیاری مکمل کر چکا ہے اور اعلیٰ عسکری کمانڈروں نے ایران کے ساتھ تنازع میں زمینی فوج کے ممکنہ استعمال کے پیش نظر مخصوص درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
پینٹاگون نے اس متوقع تعیناتی سے متعلق سوالات وائٹ ہاؤس پر چھوڑ دیے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج کی تعیناتی سے متعلق کسی بھی اعلان کا اختیار پینٹاگون کے پاس ہے۔
یہ ایک تازہ ترین صورتحال ہے اور جیسے جیسے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…