ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد پینٹاگون کی جانب سے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت سے واقف دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی عسکری قیادت اس تعیناتی کی تیاری کر رہی ہے۔
منصوبہ بندی سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق اس تعیناتی میں کمانڈ ایلیمنٹ کے علاوہ زمینی فوج کے کچھ دستے بھی شامل ہوں گے۔ اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ اس تعیناتی کی تیاری مکمل کر چکا ہے اور اعلیٰ عسکری کمانڈروں نے ایران کے ساتھ تنازع میں زمینی فوج کے ممکنہ استعمال کے پیش نظر مخصوص درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
پینٹاگون نے اس متوقع تعیناتی سے متعلق سوالات وائٹ ہاؤس پر چھوڑ دیے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج کی تعیناتی سے متعلق کسی بھی اعلان کا اختیار پینٹاگون کے پاس ہے۔
یہ ایک تازہ ترین صورتحال ہے اور جیسے جیسے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ این ایف سی…
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد…
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ نو مئی کے پرتشدد واقعات…
جنوبی لبنان کے علاقے ساکسکیہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت…
راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں اتوار کی صبح معرکہ حق کی فتح کو ایک…
امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باوجود تہران کی تیل کی…