امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باوجود تہران کی تیل کی صنعت کو فوری طور پر کسی بڑے معاشی بحران کا سامنا نہیں ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران اس دباؤ کو کئی ماہ تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے جنگ کے جلد خاتمے کی امریکی امیدیں ماند پڑ سکتی ہیں۔
ناکہ بندی کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اعلیٰ امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام ایران کے تیل کے شعبے میں فوری بحران پیدا کر دے گا۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر برآمدات بحال نہ ہوئیں تو ایران کا پورا تیل کا انفراسٹرکچر دھماکے سے تباہ ہو جائے گا۔ تاہم یہ پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوئی، اگرچہ آبنائے ہرمز کے قریب درجنوں ایرانی آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ناکہ بندی کے باعث اپنی پیداوار میں بتدریج کمی کی ہے اور خدشہ ہے کہ دو ماہ کے اندر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے پر کچھ کنویں بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران بڑی بندشوں سے بچ سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے تیل کی بڑی مقدار کو ملکی سطح پر ریفائن کر کے استعمال میں لا سکتا ہے۔
قمر انرجی کنسلٹنگ کے رابن ملز کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنی پیداوار کا نصف حصہ کم کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ملکی سطح پر ریفائننگ کی سہولت اسے فعال رکھے گی۔ یوریشیا گروپ کے گریگوری برو کے مطابق ایران ماضی میں بھی امریکی پابندیوں کے دوران پیداوار کم کرنے کا تجربہ رکھتا ہے اور یہ صورتحال اس کے انفراسٹرکچر کو مستقل نقصان نہیں پہنچائے گی۔
گریگوری برو نے مزید بتایا کہ ایران نے حکمت عملی کے تحت ٹینکرز پر لدنے والے تیل کی مقدار کو 11 ملین بیرل فی ہفتہ سے کم کر کے 6 سے 8 ملین بیرل تک محدود کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…