اسلام آباد سے ذیشان یوسف زئی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان میں آپریشن غضب الحق کے دوران کیا گیا عارضی وقفہ گزشتہ رات بارہ بجے ختم ہو گیا ہے تاہم اسلام آباد نے عندیہ دیا ہے کہ کابل کے خلاف کارروائیوں میں یہ تعطل مزید برقرار رہ سکتا ہے۔
اس معاملے سے قریبی تعلق رکھنے والے باخبر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کچھ مخصوص شرائط کے تحت آپریشن میں اس عارضی وقفے کو جاری رکھنے پر غور کر سکتا ہے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ آپریشن میں یہ توقف صرف اسی صورت میں برقرار رہے گا جب تک افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کا سلسلہ بند رہتا ہے تو پاکستان کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرے گا۔ تاہم افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن میں عارضی جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اور شرط افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کا خاتمہ ہے۔
اس ضمن میں زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے عین مطابق کی جا رہی ہیں۔
موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند تنظیمیں افغانستان کے اندر سے سرگرمیاں انجام دیتی ہیں تو پاکستان ان کے محفوظ ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بناتا ہے۔ لہٰذا جب تک افغانستان کے اندر سے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، تب تک کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان نے عید الفطر کے موقع پر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن میں عارضی وقفے کا اعلان کیا تھا جو 24 مارچ کی رات بارہ بجے تک جاری رہا۔
امریکی اسکیئر میکیلا شیفرین نے ناروے میں جاری سیزن کی آخری ریس میں جرمن حریف…
لندن میں یہودی برادری کی چار ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے سلسلے…
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس…
پاکستان نے تہران کو امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والی ایک تجاویز کی دستاویز…
بغداد میں مغربی صوبے الانبار کے قریب عوامی موبلائزیشن فورسز کے ایک مرکز پر فضائی…
اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے اندر ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس…