پاکستان واٹر اسٹیورڈ شپ کانفرنس 2026: آبی بحران کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور

اسلام آباد میں دو روزہ پاکستان واٹر اسٹیورڈ شپ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں حکومتی عہدیداروں، صنعتی ماہرین، ماہرین تعلیم اور ڈونر کمیونٹیز کے نمائندوں نے ملک کو درپیش پانی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ اکتیس مارچ سے یکم اپریل تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کا اہتمام ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے کیا تھا۔

کانفرنس کا مرکزی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں تازہ پانی کے ذخائر کا تحفظ اور لچکدار کمیونٹیز کی تعمیر تھا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل آصف صاحبزادہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے 2025 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس آفت سے 40 سے 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔

آصف صاحبزادہ نے مزید کہا کہ پانی کا تحفظ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے اجتماعی عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز پائیدار آبی انتظام کے لیے شراکت داری قائم کرنے اور قابل عمل حل تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے فریش واٹر پروگرام کے ڈائریکٹر سہیل علی نقوی نے کہا کہ پانی کے خطرات حکومت، صنعت اور عوام سب کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے انفرادی کوششوں کے بجائے جامع اور کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

وزارت تجارت کے نیشنل کمپلائنس سینٹر کے سربراہ نبیل امین نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پاس صنعتی بنیاد اور افرادی قوت تو موجود ہے، تاہم بین الاقوامی معیارات کے مطابق تصدیق شدہ کارکردگی کے لیے درکار انفراسٹرکچر کا فقدان ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حفصہ رشید نے آبی گورننس کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اداروں، شعبوں اور دریائی طاسوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو ملکی آبی مسائل کا حل قرار دیا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر مسعود ارشد نے کہا کہ پانی پاکستان کا مستقبل ہے اور اجتماعی عمل کے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہے۔ کانفرنس کے دوران مربوط آبی وسائل کے انتظام، پائیدار زراعت، شہری آبی لچک اور صنعتی آبی انتظام پر تفصیلی سیشنز ہوئے۔ کانفرنس کے اختتام پر بیسن کی سطح پر منصوبہ بندی، گراؤنڈ واٹر ریچارج کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، آبپاشی کی جدید کاری اور گندے پانی کے دوبارہ استعمال کے لیے اہم سفارشات مرتب کی گئیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پاکستان نے قازقستان میں ہونے والے ڈیوس کپ جونیئرز کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا

پاکستان ٹینس فیڈریشن نے شیمکینٹ میں منعقد ہونے والے ڈیوس کپ جونیئرز کے لیے قومی…

5 منٹس ago

خطے میں کشیدگی: پیوٹن اور سعودی ولی عہد کا تناؤ کم کرنے پر زور

ماسکو (ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے…

48 منٹس ago

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کراچی میں انتقال کر گئے

سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کراچی میں…

53 منٹس ago

صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے برطرف کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے ہٹا…

58 منٹس ago

شمالی ایران میں امریکی اور اسرائیلی طیاروں کا اہم پل پر حملہ

ایران کے شمالی علاقے میں جمعرات کے روز ایک اہم شاہراہ پر واقع پل کو…

1 گھنٹہ ago

آسٹریا کا ایران پر ممکنہ حملے کے لیے امریکی فضائی حدود کے استعمال کی درخواست مسترد

ویانا (ویب ڈیسک) آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود…

2 گھنٹے ago