لاہور ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ درخواست جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دائر کی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ غیر قانونی اور عوامی مفادات کے منافی ہے۔ پٹیشن کے مطابق قیمتوں میں یہ بے تحاشا اضافہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے جس سے عوام شدید متاثر ہوں گے۔
درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، بجلی، زرعی اجناس اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خدشہ ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا حالیہ اضافہ کالعدم قرار دیا جائے اور حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخ ساز اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ملکی تاریخ میں ایندھن کی بلند ترین قیمتیں ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…