شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یکم اپریل 2026 کو ہونے والی اس کارروائی میں مارے جانے والے دہشت گردوں میں دو افغان شہری بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں امیر حمزہ حقیار ولد عبدالکریم اور پکتیا افغانستان کا رہائشی امیر عبدالرحیم ولد زر ولی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ان عناصر کو پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان نے اس صورتحال کے پیش نظر اپنی سرحدوں کی حفاظت اور داخلی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ آپریشن غضب الحق کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ، ملکی سالمیت کو یقینی بنانا اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔
اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…