ایران اور اسرائیل کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے ہنگامی اقدامات پر مشاورت تیز کر دی ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اس سلسلے میں اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
توانائی بچت پلان کے تحت کاروباری مراکز، مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ تجاویز ایک سے دو ماہ کے لیے نافذ کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے جبکہ چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں سے بھی رائے لی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایندھن کی کھپت میں کمی لانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ یہ اقدامات وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ ماہ اعلان کردہ چودہ نکاتی کفایت شعاری پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں ملکی معیشت کو محفوظ بنانا ہے۔
حکومتی پلان میں سرکاری اخراجات میں کمی، اشرافیہ کی مراعات محدود کرنے اور سادگی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران سے بچنے کے لیے یہ فیصلے ناگزیر ہیں تاکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…