اسلام آباد مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے جس کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان جاری چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اہم ترین بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وفد کے ساتھ ملاقات میں خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی اور ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود ہیں۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔ وزیراعظم نے مذاکرات میں ایران کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی و عالمی امن کے لیے تعمیری نتائج کے حصول تک اپنا ثالثی کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اور ان کے وفد سے بھی ملاقات کی۔ امریکی وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں جو اسلام آباد مذاکرات ۲۰۲۶ کے سلسلے میں پاکستان پہنچے ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے نتیجے میں ہزاروں ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وفود کی آمد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے تاکہ تنازع کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔
مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد کو غیر معمولی سیکیورٹی حصار میں لیا گیا ہے۔ شہر کے اہم راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔ مذاکرات خفیہ مقام پر ہو رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے خلل سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہے۔ اس سے قبل پاکستان ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی بلا چکا ہے جبکہ چین کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے لیے پانچ نکاتی فارمولا بھی پیش کیا گیا تھا۔
فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کا عارضی جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے جس کا مقصد فوجی کارروائیاں روکنا اور آبنائے ہرمز جیسے تزویراتی راستوں کو کھولنا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی تجاویز کو مذاکرات کی بنیاد بنایا گیا ہے جن میں عدم جارحیت، پابندیوں کا خاتمہ اور دشمنی کا اختتام شامل ہے۔ پاکستان اب ان کوششوں میں مصروف ہے کہ اس عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے۔
برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی…
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے…
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے طویل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کے بعد بالآخر خطے…
اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں کے سربراہان نے مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی قوانین…
اکسٹھویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں پاکستان آرمی کے شاہ خان اور ہائقہ حسن…
یوکرین کے شہر اوڈیسا میں روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو…