لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر بازپرس کی گئی۔ یہ درخواست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے توہین آمیز مواد ہٹانے کے عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر دائر کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس سلطان تنویر نے استفسار کیا کہ اگر یوٹیوب اور ایکس جیسے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دفاتر پاکستان میں موجود نہیں ہیں تو ان پر ملکی قوانین کا اطلاق کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ان کمپنیوں نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں تو اپنے دفاتر قائم کر رکھے ہیں مگر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے قابل اعتراض مواد ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…