لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر بازپرس کی گئی۔ یہ درخواست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے توہین آمیز مواد ہٹانے کے عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر دائر کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس سلطان تنویر نے استفسار کیا کہ اگر یوٹیوب اور ایکس جیسے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دفاتر پاکستان میں موجود نہیں ہیں تو ان پر ملکی قوانین کا اطلاق کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ان کمپنیوں نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں تو اپنے دفاتر قائم کر رکھے ہیں مگر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے قابل اعتراض مواد ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔
وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے ضابطہ اخلاق میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔…
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک کسی…
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا…
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ…
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں 18 سے 23 اپریل کے دوران شدید…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے…