پاکستان نے ایران کے راستے نئے ٹرانزٹ تجارتی راہداری کا آغاز کر دیا

پاکستان نے ایران کے راستے ایک نئے ٹرانزٹ ٹریڈ کوریڈور کو فعال کر دیا ہے جس سے علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا اور روایتی افغان روٹ پر انحصار میں کمی آئے گی۔ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن این ایل سی نے گبد بارڈر ٹرمینل کو ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روڈز یعنی ٹی آئی آر سسٹم کے لیے فعال کر دیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے اندر ایران کے ساتھ تجارت کو وسعت دینے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے تناظر میں یہ کوریڈور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان نے اس نئے کوریڈور کے تحت کراچی سے تاشقند کے لیے پہلی برآمدی کھیپ روانہ کر دی ہے جس سے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک باضابطہ تجارتی راستے کا آغاز ہوا ہے۔ گبد ریمدان بارڈر ٹرمینل بلوچستان کے علاقے گبد اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے ریمدان کے درمیان واقع ہے۔

اس ٹرمینل کو جدید اسکیننگ سسٹمز اور ٹی آئی آر فریم ورک کی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے اور اپریل 2026 سے یہاں کنٹینرائزڈ اور ریفریجریٹڈ کارگو کی نقل و حمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ این ایل سی کی جانب سے تیار کردہ یہ ٹرمینل ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک سامان کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ اور مختصر متبادل فراہم کرتا ہے۔

پہلی کھیپ میں منجمد گوشت شامل تھا جسے ٹی آئی آر سسٹم کے تحت روانہ کیا گیا۔ کسٹم کلیئرنس کے بعد یہ کنسائنمنٹ ایران کے راستے ازبکستان کے لیے روانہ ہوئی۔ کراچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کسٹم حکام اور لاجسٹک ماہرین نے اسے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوریڈور برآمد کنندگان کو وسطی ایشیائی منڈیوں، بالخصوص ازبکستان تک کم خرچ اور قابل اعتماد رسائی فراہم کرے گا جس سے ٹرانزٹ وقت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو علاقائی رابطوں کا مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس اقدام کو ایک شاندار کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقائی تجارت اور معاشی انضمام کے نئے دروازے کھلیں گے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جے ہوتھ نے کہا کہ ایران کے راستے ازبکستان کے لیے پہلی کھیپ کی روانگی ایک تاریخی قدم ہے اور گوادر جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو ملانے والے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

3 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

3 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

3 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

3 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

3 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

3 ہفتے ago