امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے جہاں ایران سے متعلق صورتحال پر مذاکرات ہوں گے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ واشنگٹن تہران کو ایک منصفانہ اور معقول معاہدہ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اس پیشکش کو قبول کر لے گا تاہم خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں وہ ہر ضروری اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
اس حوالے سے ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات کے لیے کوئی وفد بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ اب بھی سمندری ناکہ بندی برقرار ہے۔
امریکی وفد کی قیادت کے معاملے پر بھی ابہام برقرار ہے۔ اے بی سی نیوز کے صحافی جوناتھن کارل نے پہلے بتایا تھا کہ امریکی وفد کی سربراہی جے ڈی وینس کریں گے تاہم بعد ازاں انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے اس کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق سیکرٹ سروس کے لیے 24 گھنٹے کے نوٹس پر سکیورٹی انتظامات کرنا ممکن نہیں تھا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ہفتے کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے لیکن مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے ایران کو تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل جائزہ لے رہی ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ایران پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن امریکہ پر اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔
عالمی منڈی میں صورتحال کے حوالے سے جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی جب ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اشارہ دیا تھا۔ تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان کے بعد تہران نے دوبارہ آبنائے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز کم از کم دو بحری جہازوں نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے کے قریب ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سعودی…
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے…
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں…
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے…
تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری کشیدگی کے درمیان امریکی وفد نئے مذاکرات کے لیے…
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے…