پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے دوران مندی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری دن کے وسط میں انڈیکس 2 ہزار 935 پوائنٹس کی تنزلی کے بعد 1 لاکھ 71 ہزار 4 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ یہ گراوٹ جمعہ کے بند ہونے والے 1 لاکھ 73 ہزار 939 پوائنٹس کے مقابلے میں 1 اعشاریہ 69 فیصد بنتی ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 74 ہزار 524 اور کم ترین سطح 1 لاکھ 70 ہزار 626 پوائنٹس رہی۔ اس دوران 34 کروڑ 50 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 37 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
مارکیٹ میں مندی کی بڑی وجہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ گزشتہ ہفتے سفارتی پیش رفت کی امید پر مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی تاہم مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آئل اینڈ گیس، ایکسپلوریشن اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں منافع بخش فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
بینکنگ اور آٹو سیکٹر کے کچھ اسٹاکس نے ابتدائی طور پر مزاحمت دکھائی لیکن فروخت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث وہ بھی اپنی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار دارالحکومت میں جاری اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں اور امریکی وفد کی موجودگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جس کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پایا جا رہا ہے۔
اگرچہ آج مارکیٹ میں تصحیح کا عمل جاری ہے تاہم معاشی اشاریوں کی بہتری اور گزشتہ سیشنز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے باعث سالانہ بنیادوں پر مارکیٹ کا مجموعی رجحان بدستور مثبت سمت میں ہے۔
پنجاب حکومت نے بنجر زمینوں کو زرعی معاشی زونز میں تبدیل کرنے کے لیے جھینگے…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس…
چین نے خلیج عمان میں امریکی بحری افواج کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز کو…
جاپان کے شمالی ساحلی علاقوں میں پیر کے روز شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے…
جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں پیر کے روز سات اعشاریہ پانچ شدت کے…
پاکستان اور مصر کی مشترکہ فوجی مشق تھنڈر ٹو چیراٹ میں کامیابی کے ساتھ اختتام…