پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایئر ایمبولینس سروس کی کارکردگی اور اخراجات کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئیں۔ رکن اسمبلی ندیم قریشی کی جانب سے سروس کی افادیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ شدید علیل اور انتہائی نگہداشت کے محتاج مریضوں کی بروقت منتقلی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق صوبے میں دو ایئر ایمبولینسز کرائے کے معاہدے کے تحت فعال ہیں۔ مالی سال 2023-24 کے دوران اس مد میں کوئی اخراجات نہیں ہوئے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران اب تک اس منصوبے پر ایک ارب پانچ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایئر ایمبولینس سروس کے لیے بی ایس 17 گریڈ کے تین طبی افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ یکم جنوری 2024 سے اب تک 254 تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کو اس سروس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ مریضوں کی منتقلی پر اب تک مجموعی اخراجات ایک ارب 63 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں، جس میں رواں مالی سال 2025-26 کے دوران پانچ کروڑ 80 لاکھ روپے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ یہ سروس ریسکیو 1122 کے زیر انتظام کام کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا…
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کے دباؤ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ…
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان…
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسکولوں میں پیش آنے والے حالیہ پرتشدد واقعات…
بھارت اور جنوبی کوریا نے دو طرفہ تجارتی حجم کو 2030 تک 50 ارب ڈالر…