امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے 2015 کے معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی انتظامیہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں 2015 کے جوہری معاہدے کو تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جے سی پی او اے کے نام سے معروف یہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتا تھا جو کہ اب ممکن نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے سابقہ معاہدے کے مالیاتی پہلوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ایران کو اربوں ڈالر کی رقوم بلا روک ٹوک منتقل کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 میں اس معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ ایک بڑے سیکیورٹی بحران کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو جوہری ہتھیار اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف استعمال ہو سکتے تھے۔
واضح رہے کہ 2015 کے معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا جس کے بدلے میں تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں امریکہ کو اس معاہدے سے علیحدہ کر لیا تھا۔
موجودہ مذاکرات کے حوالے سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پیچیدہ معاملات پر جلد بازی نہیں کریں گے۔ انہوں نے عالمی تاریخ کی بڑی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہم تنازعات کو حل کرنے میں برسوں لگتے ہیں اور وہ کسی دباؤ میں آکر فیصلہ نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت میں طے پانے والا کوئی بھی نیا معاہدہ اسرائیل سمیت پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر امن و استحکام کی ضمانت ہوگا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا…
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کے دباؤ…
پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایئر ایمبولینس سروس کی کارکردگی اور اخراجات کی تفصیلات…
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان…
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسکولوں میں پیش آنے والے حالیہ پرتشدد واقعات…
بھارت اور جنوبی کوریا نے دو طرفہ تجارتی حجم کو 2030 تک 50 ارب ڈالر…