پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کی رجسٹریشن کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سیکیورٹی کے امور کی نگرانی کو مزید موثر بنانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے حکام کے مطابق اس نئے نظام کو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جس سے سیکیورٹی کا مرکزی مانیٹرنگ سسٹم قائم ہو جائے گا۔ تمام سیکیورٹی کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن کا عمل خصوصی سیفٹی ایپلی کیشن کے ذریعے مکمل کریں۔
نئے نظام کے تحت سیکیورٹی گارڈز کا مکمل ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا جس میں ان کی تعلیمی قابلیت، کوائف اور تصدیقی ریکارڈ شامل ہوگا۔ اس پلیٹ فارم پر پنجاب پولیس کی جانب سے گارڈز کے کرمنل ریکارڈ بھی اپ لوڈ کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جدید ڈیجیٹل انضمام صوبے کے سیکیورٹی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے نہ صرف نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے کام میں شفافیت آئے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط رابطے بھی بہتر ہوں گے۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تمام متعلقہ اداروں کے لیے سیف سٹیز اتھارٹی کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال…
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں…
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے منگل کے روز تصدیق کی…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان…
ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کی بیٹی گیانینا میراڈونا نے اپنے والد کی موت…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اپنے نچلے ترین سطح پر برقرار ہے۔ رائٹرز اور…