پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے باعث اتار چڑھاؤ کا رجحان دیکھا گیا۔ بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے سائے میں مارکیٹ کسی واضح سمت کا تعین کرنے میں ناکام رہی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز دباؤ کے ساتھ ہوا جس کے بعد کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ صبح کے وقت انڈیکس میں 135.08 پوائنٹس یعنی 0.08 فیصد کی تنزلی ہوئی تاہم 11 بج کر 34 منٹ پر مارکیٹ نے کچھ سنبھلتے ہوئے 119.24 پوائنٹس یعنی 0.07 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
مارکیٹ میں اس غیر یقینی کی بنیادی وجہ اسلام آباد میں متوقع امریکا ایران امن مذاکرات کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کرنے کے باعث تجارتی حجم میں بھی کمی دیکھی گئی۔
اگرچہ سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹ نے مارکیٹ کو کچھ سہارا فراہم کیا تاہم آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں منافع خوری کے رجحان نے انڈیکس پر دباؤ برقرار رکھا۔
دن کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 173,452.66 اور نچلی ترین سطح 171,841.04 پوائنٹس رہی۔ اس دوران 18 کروڑ 49 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا جن کی مالیت 15 ارب 23 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ مرتب کیے جانے تک دوپہر 12 بج کر 50 منٹ پر انڈیکس 506.58 پوائنٹس یعنی 0.34 فیصد کی کمی کے ساتھ 172,649.21 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…