یوکرین نے ترکی سے درخواست کی ہے کہ وہ صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کی میزبانی کرے۔ کیف کی جانب سے یہ اقدام جاری تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ترکی سمیت دیگر دارالحکومتوں سے بھی اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین روس یا بیلاروس کے علاوہ کسی بھی مقام پر ملاقات کے لیے تیار ہے تاکہ چار سال سے جاری جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
بیلاروس روس کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور اس نے سنہ 2022 میں ماسکو کو اپنی سرزمین یوکرین پر مکمل حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ وزیر خارجہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ترکی کی جانب سے اس تجویز پر کیا ردعمل سامنے آیا ہے۔
آندری سیبیہا نے کہا کہ انہوں نے خاص طور پر ترک حکام سے بات کی ہے تاہم اگر کوئی اور دارالحکومت بھی اس ملاقات کا اہتمام کرتا ہے تو یوکرین وہاں جانے کے لیے تیار ہے۔ کریملن ماضی میں یہ کہہ چکا ہے کہ وہ زیلنسکی کی ماسکو میں میزبانی کے لیے تیار ہے تاہم یوکرینی صدر وہاں جانے سے انکار کر چکے ہیں۔
ایک اور پیش رفت میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے ہنگری کی نامزد وزیر خارجہ انیتا اوربان کے ساتھ تحریری پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔ ہنگری میں حال ہی میں ہونے والے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی انیتا اوربان وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھال لیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…