پہلگام واقعے کے بعد سکھ برادری اور سکھ رہنماؤں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے جس کے بعد بھارت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر نمایاں ہوا ہے اور سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
خالصتان تحریک کے رہنما گوروپتونت سنگھ پنوں نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پاکیزگی کی علامت ہے اور لاکھوں سکھ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ میں بھی سکھ رہنما گوروپتونت سنگھ پنوں کے خلاف مبینہ سازش کے معاملے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستان کے لیے سفارتی مواقع پیدا کیے ہیں جبکہ عالمی سطح پر اس معاملے پر بحث کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…