امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق معاملات پر بات چیت کے لیے اپنے اعلیٰ سطح کے وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ تناؤ میں واشنگٹن مضبوط پوزیشن میں ہے اس لیے اس دورے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کی نامہ نگار عائشہ حسنی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں تمام تر پتے امریکہ کے ہاتھ میں ہیں اس لیے امریکی وفد کا اٹھارہ گھنٹے کا طویل سفر کر کے پاکستان جانا سودمند نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی حکام جب چاہیں امریکہ کو خود کال کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو دورے کی تیاری سے روکتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اٹھارہ گھنٹے کا سفر کر کے وہاں نہ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مضبوط پوزیشن میں ہیں اور وہ جب چاہیں رابطہ کر سکتے ہیں لیکن اب مزید اٹھارہ گھنٹے کے طویل سفر کر کے بے مقصد مذاکرات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو چکے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…