لاہور بورڈ نے امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور اقربا پروری کے خاتمے کے لیے عملی امتحانات کے خودکار نظام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس نئے خودکار نظام کا نفاذ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اس عمل کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور چیئرمین ٹاسک فورس کمیٹی برائے بورڈز مزمل محمود کی خصوصی ہدایات شامل تھیں۔
نئے میکنزم کے تحت عملی امتحانات کے دوران نگران عملے کی تعیناتی اب مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ طریقے سے کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے پسند ناپسند کا عنصر ختم ہو جائے گا کیونکہ اب کوئی بھی ایگزامینر اپنی مرضی کے امتحانی مرکز میں ڈیوٹی حاصل نہیں کر سکے گا۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایات کے مطابق امتحانی عمل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا گیا ہے۔ لاہور بورڈ نے اس سلسلے میں تمام عملی امتحانات کو سینٹرل مارکنگ سسٹم پر منتقل کرنے کے لیے بھی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…