ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری مشاورت کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کا یہ دورہ جوہری مذاکرات سے کسی بھی طور منسلک نہیں ہے۔
دورے کے بنیادی مقاصد میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط سے پاکستانی قیادت کو آگاہ کرنا شامل ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز کے لیے نیا قانونی نظام نافذ کرنا اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ حاصل کرنا اولین ترجیح ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کا مطالبہ ہے کہ جنگجو عناصر کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی جارحیت کو روکا جائے اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد نے پچیس اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
مسقط کے مختصر دورے کے بعد اسلام آباد واپسی پر عباس عراقچی کا یہ دوسرا دورہ دو طرفہ سفارتی رابطوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…