ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری مشاورت کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کا یہ دورہ جوہری مذاکرات سے کسی بھی طور منسلک نہیں ہے۔
دورے کے بنیادی مقاصد میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط سے پاکستانی قیادت کو آگاہ کرنا شامل ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز کے لیے نیا قانونی نظام نافذ کرنا اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ حاصل کرنا اولین ترجیح ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کا مطالبہ ہے کہ جنگجو عناصر کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی جارحیت کو روکا جائے اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد نے پچیس اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
مسقط کے مختصر دورے کے بعد اسلام آباد واپسی پر عباس عراقچی کا یہ دوسرا دورہ دو طرفہ سفارتی رابطوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے میٹرک کے امتحانات کے دوران ایک طالب…
یوکرین، روس اور روسی زیر قبضہ علاقوں میں جاری شدید جھڑپوں اور حملوں کے نتیجے…
جڑواں شہروں میں ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی…
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے مابین جاری…
اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم…