نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے منگل کے روز پچیس کلو واٹ سے کم صلاحیت کے حامل سولر صارفین کے لیے لائسنسنگ کی شرط ختم کرنے اور عائد کردہ فیس منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پچیس کلو واٹ سے کم کے سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو اب کسی قسم کی فیس ادا کرنے یا لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم اس حد سے زائد صلاحیت کے حامل سسٹمز پر فی کلو واٹ ایک ہزار روپے کی ون ٹائم فیس لاگو ہوگی۔ یہ فیصلہ رواں سال نو فروری سے نافذ العمل تصور کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت پاور ڈویژن کی جانب سے اتوار کو نیپرا کو بھجوائی گئی اس درخواست کے بعد سامنے آئی جس میں وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر ضوابط پر نظر ثانی اور چھوٹے صارفین کے لیے فیس و لائسنسنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نئے قوانین کے منفی اثرات کے پیش نظر پرانے فریم ورک کو بحال کیا جائے۔ وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت سولر توانائی کے فروغ اور صارفین کو سہولت دینے کے لیے پرعزم ہے اور غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سن دو ہزار پندرہ کے ضوابط کے تحت پچیس کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے نیپرا لائسنس کی ضرورت نہیں تھی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں براہ راست درخواستیں نمٹاتی تھیں۔ بعد ازاں پروڈیوسر ریگولیشنز کے تحت منظوری کا اختیار نیپرا کو منتقل کر دیا گیا تھا جس پر صارفین اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔
دفتر خارجہ نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ حکومت پاکستان اور کمبوڈیا کے…
چین کے جنوبی شہروں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث نظام زندگی متاثر…
کمبوڈیا میں ایک مشکوک اسکیم کمپاؤنڈ پر چھاپے کے بعد حراست میں لیے گئے 54…
روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف کی ملکیت میں موجود پانچ سو ملین ڈالر سے زائد…
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں خلیج تعاون کونسل…
بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کے صاحبزادے اننت امبانی نے کولمبیا میں موجود کوکین ہپوز…