امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں قائم اپنے قونصلیٹ جنرل کو مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا اور وسائل کا مؤثر استعمال قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق خیبر پختونخوا سے متعلق تمام سفارتی امور اب اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے ذریعے نمٹائے جائیں گے، جبکہ پشاور میں امریکی موجودگی کو محدود کر دیا جائے گا۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اقدام کے باوجود پاکستان میں امریکی پالیسی کے اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوششیں بدستور جاری رہیں گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کے ساتھ روابط مختلف ذرائع سے برقرار رہیں گے، جس میں معاشی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی مفادات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے امریکی مشن اسلام آباد کے علاوہ کراچی اور لاہور میں موجود اپنے سفارتی دفاتر کے ذریعے بدستور فعال رہے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…