چار سدہ میں مذہبی اسکالر مولانا محمد ادریس پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ایک مشتبہ عسکریت پسند کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا محمد ادریس کے ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے حاصل کردہ موبائل فون ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے تکنیکی معاونت بھی طلب کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مردان ریجن میں ماضی کے ہائی پروفائل مقدمات میں ملوث ملزمان کو بھی شامل تفتیش کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
پولیس ان افراد کی پروفائلنگ کر رہی ہے جنہوں نے حملے سے قبل مولانا محمد ادریس کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شناخت شدہ ملزم کے پس منظر کی تصدیق اور مزید ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
موجودہ دور کی ملازمت مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں مہارت روزگار…
امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں قائم اپنے قونصلیٹ جنرل کو مرحلہ وار بند کرنے…
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین طویل عرصے سے قائم اتحاد میں دراڑیں…
نیویارک میں منعقدہ میٹ گالا 2026 کے چرچے اس وقت سوشل میڈیا پر عروج پر…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ژی…
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کے روز ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان…