حکومت سندھ نے کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی منتظمین اور شرکاء کے ساتھ بدسلوکی اور گرفتاری کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تین پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے۔
یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا جب ممتاز فنکارہ شیما کرمانی اور ان کے ساتھی دس مئی کو ہونے والے عورت مارچ کے حوالے سے پریس کانفرنس کے لیے کراچی پریس کلب پہنچے تھے۔ اس دوران ساؤتھ پولیس نے مبینہ طور پر تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیما کرمانی سمیت پندرہ انسانی حقوق کی کارکنوں کو حراست میں لے کر آرٹلری میدان تھانے منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں اعلیٰ حکام کی مداخلت پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد تحقیقات مکمل کی گئیں، جس میں یہ بات ثابت ہوئی کہ ساؤتھ پولیس نے یہ کارروائی اپنے اعلیٰ حکام کی منظوری کے بغیر کی تھی۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج اور تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے مطابق اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے وقار اور حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری رہیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…