ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے شوگر ملز مالکان نے دس لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملز مالکان نے وزارت پیداوار کو اعداد و شمار فراہم کر دیے ہیں جن میں ملک میں چینی کے وافر اسٹاک کی نشاندہی کی گئی ہے۔
شوگر ملز مالکان کا موقف ہے کہ اگر چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق چینی کی برآمد سے ایک ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے چینی کی برآمد کی مشروط منظوری کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملز مالکان سے اس بات کی تحریری ضمانت طلب کی ہے کہ برآمد کی صورت میں مقامی سطح پر چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔
وزارت کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جب تک ملز مالکان قیمتوں میں استحکام کی ضمانت نہیں دیں گے، حکومت چینی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس چینی کی برآمد کے بعد ملکی منڈیوں میں قیمتیں 120 روپے سے بڑھ کر 200 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی تھیں۔ حکومتی حلقے اسی خدشے کے پیش نظر انتہائی محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…