پنجاب میں اقلیتی ترقیاتی فنڈز کا گرودواروں کی بحالی اور مذہبی سیاحت کے فروغ پر خرچ کرنے کا معاملہ ایک نئی بحث کا مرکز بن گیا ہے جس نے صوبائی پالیسی، وسائل کی تقسیم اور آئینی اختیارات کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر مسیحی، ہندو اور سکھ برادری کے نمائندوں کی جانب سے متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں جبکہ قانونی ماہرین اس معاملے کا وفاقی اور صوبائی اختیارات کے تناظر میں جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے وزارت اقلیتی امور اور صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ سپیکر کا موقف ہے کہ اقلیتی آبادی بنیادی سہولیات جیسے پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اور صحت کی سہولیات سے محروم ہے، لہذا ترقیاتی فنڈز کا اولین حق انسانی ضروریات کی تکمیل ہے۔
مسلم لیگ ن کے اقلیتی رکن بابا فالبوس کرسٹوفر کے مطابق صوبائی ترقیاتی بجٹ میں 17 گرودواروں کی بحالی کے لیے تقریباً 2 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ کسی چرچ یا مندر کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں مسیحی برادری کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے فنڈز کی تقسیم میں توازن قائم کیا جائے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے ہندو رکن بسرو جی نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ہندو برادری کی بڑی تعداد آباد ہے لیکن ان کی فلاح کے لیے کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا اور بعض مختص فنڈز بھی واپس لے لیے گئے۔
صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تاریخی مذہبی مقامات کی بحالی کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی سیاحت کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ننکانہ صاحب، حسن ابدال اور لاہور کے گرودوارے عالمی سطح پر اہمیت کے حامل ہیں جن کی بحالی سے مقامی معیشت اور سیاحت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گزشتہ دو برسوں میں اقلیتی امور کے محکمے کا بجٹ 300 فیصد تک بڑھایا ہے اور اقلیتوں کے دیرینہ مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جا رہا ہے۔
سابق صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین کا کہنا ہے کہ اگر فنڈز کو صوبے کے 10 ڈویژنوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر ضلع کے حصے میں بہت کم رقم آتی ہے جو بنیادی مسائل کے حل کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر رکن اسمبلی کو اپنے ترقیاتی فنڈز کا کم از کم 5 فیصد اقلیتی آبادی پر خرچ کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ دوسری جانب اقلیتی رکن اسمبلی میری جیمز گل نے اس تاثر کی نفی کی کہ تمام فنڈز صرف سکھ برادری پر خرچ ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ گرودواروں کی بحالی اور بیساکھی جیسے ایونٹس سے پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت تشخص اجاگر ہوا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو آئینی نوعیت کا بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گرودواروں اور مندروں کا انتظام وفاقی متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس ہے، لہذا ان پر خرچ وفاق کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ تاہم آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ثقافت، سیاحت اور مقامی ترقی صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جس کے تحت صوبائی حکومت قانونی طریقہ کار کے مطابق ان منصوبوں پر فنڈز خرچ کر سکتی ہے۔ پنجاب کے متعدد اضلاع میں اقلیتی تنظیمیں طویل عرصے سے صاف پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے فقدان کو اجاگر کرتی رہی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ترقیاتی فنڈز کو ترجیحی بنیادوں پر انسانی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مراکش میں سالانہ تربیتی مشقوں کے دوران لاپتہ…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب…
ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز یا اس کے اطراف میں فرانسیسی اور…
روس اور یوکرین نے اتوار کے روز ایک دوسرے پر امریکہ کی ثالثی میں ہونے…
شامی صدر احمد الشرع نے انتظامی امور میں بڑی تبدیلیوں کے دوران اپنے بھائی کو…
بہاولپور گیریژن میں معرکہ حق کی فتح کو ایک سال مکمل ہونے پر یادگار شہدا…