شامی صدر احمد الشرع نے انتظامی امور میں بڑی تبدیلیوں کے دوران اپنے بھائی کو کلیدی سرکاری عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام اقربا پروری کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت صدر نے ایک نئے عہدیدار کو تعینات کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دمشق میں صدارتی سیکرٹری جنرل کے فرائض سرانجام دینے والے ماہر الشرع کو عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کی برطرفی کی حتمی وجوہات کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی تاہم یہ فیصلہ اقربا پروری کے الزامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ماہر الشرع کی تعیناتی کے وقت ان کا موازنہ بشار الاسد اور حافظ الاسد کے ادوار میں حکومتی طرزِ عمل سے کیا جاتا رہا ہے جہاں قریبی رشتہ داروں کو بااثر عہدوں پر فائز رکھا جاتا تھا۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق صدر نے ماہر الشرع کی جگہ حمص کے سابق گورنر عبدالرحمن بدرالدین العامہ کو صدارتی سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ماہر الشرع پیشے کے اعتبار سے ایک طبی ماہر ہیں اور ماضی میں شام کے عبوری وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں کون سا عہدہ سنبھالیں گے۔
یہ انتظامی تبدیلی شامی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری عہدوں پر ردوبدل کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…