شامی صدر احمد الشرع نے انتظامی امور میں بڑی تبدیلیوں کے دوران اپنے بھائی کو کلیدی سرکاری عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام اقربا پروری کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت صدر نے ایک نئے عہدیدار کو تعینات کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دمشق میں صدارتی سیکرٹری جنرل کے فرائض سرانجام دینے والے ماہر الشرع کو عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کی برطرفی کی حتمی وجوہات کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی تاہم یہ فیصلہ اقربا پروری کے الزامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ماہر الشرع کی تعیناتی کے وقت ان کا موازنہ بشار الاسد اور حافظ الاسد کے ادوار میں حکومتی طرزِ عمل سے کیا جاتا رہا ہے جہاں قریبی رشتہ داروں کو بااثر عہدوں پر فائز رکھا جاتا تھا۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق صدر نے ماہر الشرع کی جگہ حمص کے سابق گورنر عبدالرحمن بدرالدین العامہ کو صدارتی سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ماہر الشرع پیشے کے اعتبار سے ایک طبی ماہر ہیں اور ماضی میں شام کے عبوری وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں کون سا عہدہ سنبھالیں گے۔
یہ انتظامی تبدیلی شامی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری عہدوں پر ردوبدل کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مراکش میں سالانہ تربیتی مشقوں کے دوران لاپتہ…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب…
ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز یا اس کے اطراف میں فرانسیسی اور…
روس اور یوکرین نے اتوار کے روز ایک دوسرے پر امریکہ کی ثالثی میں ہونے…
بہاولپور گیریژن میں معرکہ حق کی فتح کو ایک سال مکمل ہونے پر یادگار شہدا…
وزیر اعظم شہباز شریف نے مئی 2025 میں بھارت کے خلاف معرکہ حق اور آپریشن…