دفتر خارجہ نے امریکی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے فضائی اڈوں کے ایرانی فوجی طیاروں کے لیے استعمال سے متعلق خبر کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ بے بنیاد الزامات علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی مہم ہے۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی فضائی حدود اور نور خان ایئر بیس کو ایرانی طیاروں کے لیے استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں ایک ایرانی آر سی 130 جاسوس طیارے کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے پہلے مرحلے کے دوران ایران اور امریکہ دونوں کے طیارے پاکستان پہنچے تھے۔ ان طیاروں کی آمد کا مقصد سفارت کاروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور مذاکراتی عمل سے وابستہ انتظامی ٹیموں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ طیارے اور معاون عملہ مذاکرات کے آئندہ ادوار کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہا۔ اگرچہ باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا باقی ہے تاہم اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں جن میں ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد سمیت دیگر لاجسٹک انتظامات شامل ہیں۔
دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں موجود ایرانی طیاروں کا کسی بھی فوجی آپریشن یا ہنگامی انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار سہولت کار کے طور پر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شفاف رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں…
دبئی کے نجی تعلیمی اداروں میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا…
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک فیصد تک اضافہ…
برازیلی سماجی کارکن تھیاگو اویلا اسرائیل کی حراست سے رہائی اور ملک بدری کے بعد…
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں برس افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں…
ہینٹا وائرس سے متاثرہ لگژری کروز شپ ایم وی ہونڈیئس ہسپانوی جزیرے ٹینریف سے نیدرلینڈز…