عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں تعطل ہے۔ تہران کی جانب سے واشنگٹن کی تجاویز پر سخت ردعمل کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 86 سینٹس اضافے کے ساتھ 105 اعشاریہ 07 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 99 سینٹس بڑھ کر 99 اعشاریہ 06 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ یاد رہے کہ پیر کے روز بھی دونوں بینچ مارکس میں دو اعشاریہ آٹھ فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے امکانات انتہائی کم ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان کئی اہم مطالبات پر شدید اختلافات موجود ہیں، جن میں تمام محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی کا اختتام، ایرانی تیل کی فروخت کی بحالی اور جنگی نقصانات کا معاوضہ شامل ہے۔
دوسری جانب تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری پر زور دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ لے جانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ڈی بی ایس بینک کے انرجی سیکٹر لیڈ سورو سرکار کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے حوالے سے امیدیں دم توڑ رہی ہیں اور اگر مئی کے اختتام تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں ہے۔
اوپیک کی پیداوار اپریل میں دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات ہیں۔ کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹر کا کہنا ہے کہ اگر امن معاہدہ طے پا گیا تو قیمتوں میں 8 سے 12 ڈالر تک کی کمی آ سکتی ہے، تاہم کشیدگی بڑھنے کی صورت میں برینٹ کروڈ 115 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر سکتا ہے۔
سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں خلل مارکیٹ کو استحکام کی جانب واپس لانے میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کا نقصان ہو رہا ہے اور مارکیٹ کی بحالی 2027 تک طویل ہو سکتی ہے۔
ادھر امریکی خام تیل کے ذخائر میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ذخائر میں 17 لاکھ بیرل کی کمی متوقع ہے۔ عالمی مارکیٹ کے شرکاء کی نظریں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی بدھ کو ہونے والی ملاقات پر مرکوز ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے ایران سے چین کو تیل کی ترسیل میں سہولت کاری کے الزام میں متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں دو…
پاکستان میں عید الاضحیٰ 27 مئی 2026 کو متوقع ہے، یہ بات خلائی و بالائی…
گولف کی دنیا کے دو بڑے نام روری میکلروئے اور اسکاٹی شیفلر، جنہوں نے گزشتہ…
ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں…
دبئی کے نجی تعلیمی اداروں میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا…
برازیلی سماجی کارکن تھیاگو اویلا اسرائیل کی حراست سے رہائی اور ملک بدری کے بعد…