اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے برازیلی کارکن کا تشدد کا الزام

برازیلی سماجی کارکن تھیاگو اویلا اسرائیل کی حراست سے رہائی اور ملک بدری کے بعد پیر کے روز ساؤ پاؤلو پہنچ گئے۔ اویلا نے الزام عائد کیا ہے کہ دس روزہ حراست کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہوں نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بدترین سلوک کا مشاہدہ بھی کیا۔

تھیاگو اویلا اور ہسپانیہ کے شہری ابو کشک بارہ اپریل کو اسپین سے روانہ ہونے والے دوسرے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے۔ اس فلوٹیلا کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر امدادی سامان پہنچانا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے فلوٹیلا کو روک کر دونوں افراد کو گرفتار کر لیا اور انہیں اشکلون منتقل کر دیا، جبکہ دیگر ایک سو سے زائد حامیوں کو کریٹ بھیج دیا گیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے دونوں افراد پر دشمن کی مدد اور دہشت گرد گروپ سے رابطے سمیت مختلف الزامات عائد کیے تھے جن کی انہوں نے سختی سے تردید کی۔ ہفتے کے روز رہائی کے بعد انہیں امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا تاکہ انہیں ملک بدر کیا جا سکے۔

ساؤ پاؤلو گوارولوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تھیاگو اویلا نے کہا کہ ان کی واپسی دراصل ایک سنگین خلاف ورزی کی اصلاح ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اسرائیل نے قید نہیں بلکہ اغوا کیا تھا۔

اویلا نے مزید کہا کہ حراست کے دوران انہیں اور ابو کشک کو ہر قسم کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے قریب موجود سیلز میں بند فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کیا جا رہا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ، جس نے اسرائیلی عدالت میں ان افراد کی نمائندگی کی تھی، کی جانب سے لگائے گئے تشدد کے الزامات کو اسرائیل نے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق اٹھائے گئے تھے۔ اسپین اور برازیل کی حکومتیں ان گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔

ایئرپورٹ پر موجود اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اویلا نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی شکست کو ناگزیر قرار دیا۔ اس موقع پر موجود حامیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں برازیل سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

غزہ کا انتظام بڑی حد تک فلسطینی گروپ حماس کے پاس ہے، جسے اسرائیل اور مغرب کے بیشتر ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کی بڑی آبادی کو بے گھر کر دیا ہے اور وہاں کے لوگ امداد کے محتاج ہیں، جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی سست روی سے پہنچ رہی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago