-Advertisement-

یورپی یونین کی افغان مہاجرین کی واپسی پر طالبان حکام کو برسلز آنے کی دعوت

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: جنوبی افریقہ کے ساحلوں پر وہیل مچھلیوں کی زندگی کو خطرات لاحق

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تجارتی جہازوں کا رخ جنوبی...
-Advertisement-

یورپی کمیشن نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ وہ افغان تارکین وطن کی وطن واپسی کے معاملے پر بات چیت کے لیے طالبان حکام کو برسلز مدعو کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس حوالے سے کابل کو جلد ہی ایک باضابطہ خط ارسال کیا جائے گا جس میں ملاقات کی تاریخ طے کی جائے گی۔

یورپی یونین کے ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت سویڈن کے ساتھ مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل یورپی حکام اس معاملے پر دو بار افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ جنوری 2026 میں کابل میں ہونے والی تکنیکی سطح کی ملاقات کے بعد اب برسلز میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کے تقریباً 20 ممالک امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان ممالک کا مطالبہ ہے کہ خاص طور پر جرائم میں ملوث تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنے کے لیے سفارتی اور عملی راستے تلاش کیے جائیں۔ جرمنی پہلے ہی اس दिशा میں قدم اٹھا چکا ہے اور 2024 سے اب تک جرائم پیشہ افغان باشندوں کو قطر کی مدد سے چارٹر پروازوں کے ذریعے واپس بھیج چکا ہے۔

طالبان کو عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہ کیے جانے کے باوجود، برسلز میں ان حکام کی آمد کے لیے بیلجیئم کی جانب سے ویزا چھوٹ دیے جانے کا امکان ہے۔ یہ اقدام انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کی زد میں ہے، جن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران کے پیش نظر لوگوں کو واپس بھیجنا ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ اس دورے کا بنیادی مقصد تکنیکی مسائل کا حل نکالنا ہے، جن میں ان افراد کے لیے پاسپورٹ کا اجرا شامل ہے جن کے سفارت خانوں کو طالبان تسلیم نہیں کرتے۔ یورپی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کابل ہوائی اڈے کی استعداد کار اور دیگر انتظامی امور پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے 2024 کے دوران افغان شہریوں نے یورپی یونین میں تقریباً دس لاکھ پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ 2025 میں بھی افغان باشندے یورپی یونین میں پناہ کے متلاشی سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آئے۔ اب یورپی ممالک اپنی سخت ہوتی ہوئی امیگریشن پالیسیوں کے تحت ان تارکین وطن کی واپسی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -