خلیجی بحری بحران: پاکستان توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہونے والے ممالک میں شامل

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز اور توانائی کے امور کی تجزیاتی فرم کیپلر کی رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں شپنگ کے تعطل کے باعث پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی 99 فیصد درآمدات قطر اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پاکستان کے لیے فوری اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل میں خلل پڑنے کی صورت میں پاکستان کو فوری طور پر سپلائی کے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ملک میں ذخیرہ اندوزی اور خریداری کے متبادل ذرائع انتہائی محدود ہیں۔ کیپلر کے پرنسپل انسائٹ اینالسٹ گو کاتایاما کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش میں محدود سہولیات کے باعث توانائی کی قلت سے پاور سیکٹر بری طرح متاثر ہوگا، جس کے نتیجے میں بجلی کی طویل بندش اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کی 18 مارچ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک ہے کیونکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں اس کا انحصار خلیجی ممالک پر سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں ایندھن کے بحران کے باعث ہونے والے مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر چکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھارت اور پاکستان سمیت پورے ایشیا کے لیے دوہرا مالی اور جسمانی بحران پیدا کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش پہلے ہی گیس کے شدید بحران کا شکار ہے جہاں حکومت نے ایندھن کی قلت پر قابو پانے اور ممکنہ عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا بھر کی حکومتیں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر مجبور ہیں۔ کئی ممالک نے کام کے دنوں میں کمی کر دی ہے اور اپنے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جن ممالک کے پاس ذخائر نہیں ہیں، وہ راشن بندی اور معاشی سکڑاؤ کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔

اگر خلیجی خطے میں جاری کشیدگی مزید طویل ہوتی ہے تو اس کے ایشیائی ترقی اور سیاسی استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے، کیونکہ محدود ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کے باعث کسی بھی قسم کا سپلائی شاک فوری طور پر ملک میں صنعتی پہیہ جام کرنے اور بجلی کے بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

دنیا کے خوش ترین ممالک میں شامل ڈنمارک کی کامیاب پرورش کے اصول کیا ہیں؟

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ دنیا کا خوش ترین ملک قرار…

7 منٹس ago

بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر ہفتے کو منائی جائے گی

نئی دہلی میں شوال کا چاند نظر نہ آنے کے بعد بھارت میں عید الفطر…

12 منٹس ago

پاکستان سمیت 13 اسلامی ممالک کی ایران کے حملوں کی مذمت، کشیدگی میں کمی پر زور

ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے…

17 منٹس ago

جنگ کا بیسواں روز: توانائی کے مراکز پر حملوں سے خطے میں مکمل جنگ کا خطرہ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو بیس روز مکمل ہو چکے…

23 منٹس ago

مشرقِ وسطیٰ کی سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی محدود، سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر فیصلہ

تجارتی سیٹلائٹ کمپنیاں ایران اور مشرق وسطیٰ کے حساس علاقوں کی تصاویر تک رسائی کو…

2 گھنٹے ago

پاکستان کے پاس ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم کے کافی ذخائر موجود ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری…

2 گھنٹے ago