ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔ نارڈک ممالک گزشتہ کئی دہائیوں سے اس فہرست میں سرفہرست ہیں جبکہ ڈنمارک بھی مسلسل ٹاپ تھری ممالک میں شامل ہے۔
امریکی مصنفہ جیسیکا جوئل الیگزینڈر کا ماننا ہے کہ ڈینش والدین کے طور طریقے بچوں کی پرورش کے حوالے سے انتہائی مؤثر ہیں جنہیں دیگر ممالک بالخصوص امریکہ میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اپنی بیسٹ سیلنگ کتاب دی ڈینش وے آف پیرنٹنگ میں انہوں نے بچوں کی پرورش کے لیے پیرنٹ نامی مخفف کا استعمال کیا ہے۔
مصنفہ کے مطابق پی سے مراد پلے یعنی کھیل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں بچوں کے لیے آزادانہ کھیل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جو ان میں ہمدردی، مذاکرات کی مہارت، تنقیدی سوچ اور باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
اے سے مراد اوتھنٹیسٹی یعنی صداقت ہے۔ الیگزینڈر کے مطابق ڈنمارک کے والدین اپنے بچوں کے ساتھ دنیا کی صورتحال کے بارے میں انتہائی دیانتدارانہ گفتگو کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر کوئی چیز زندگی کا حصہ ہے تو اسے تعلیم کا حصہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ زندگی کوئی پریوں کی کہانی نہیں ہے۔
دیگر حروف میں آر سے مراد احترام، ای سے مراد ہمدردی، این سے مراد نو الٹیمیٹم یعنی دھمکی آمیز رویے سے گریز اور ٹی سے مراد ٹوگیدرنس یعنی باہمی یکجہتی ہے۔
ڈنمارک کی مجموعی خوشی میں سماجی اعتماد، عدم مساوات کی کمی اور مضبوط فلاحی نظام کا اہم کردار ہے۔ وہاں والدین کو بچے کی پیدائش پر ایک سال تک کی چھٹی کی سہولت میسر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اس فہرست میں 17 ویں نمبر پر ہے جو میکسیکو اور پاناما سے بھی پیچھے ہے۔ گیلپ اور دیگر اداروں کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔
یونانی جزیرے کتھیرا کے ساحل پر ڈوبنے والے ایک قدیم برطانوی بحری جہاز کے ملبے…
واشنگٹن نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کے تین…
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کا بیورو برائے امور مشرق وسطیٰ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی…
خیبر کے علاقے طورخم بارڈر پر زیرو پوائنٹ پر کئی روز سے پڑی افغان شہری…
نئی دہلی میں شوال کا چاند نظر نہ آنے کے بعد بھارت میں عید الفطر…
ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے…