واشنگٹن نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کے لیے 16 اعشاریہ 5 ارب ڈالر سے زائد کے اسلحہ سودوں کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام خطے میں سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے لیے 8 اعشاریہ 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے دفاعی معاہدے طے پائے ہیں جن میں میزائل، ڈرون، ریڈار سسٹمز اور ایف 16 طیاروں کے لیے گولہ بارود اور اپ گریڈیشن شامل ہے۔ کویت کو تقریباً 8 ارب ڈالر مالیت کے ایئر اور میزائل ڈیفنس ریڈار فراہم کیے جائیں گے جبکہ اردن کو 70 اعشاریہ 5 ملین ڈالر کا طیارہ سپورٹ اور اسلحہ ملے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فروخت ایران کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کیے گئے حملوں کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ حملے ایرانی گیس تنصیبات پر اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے جس سے تین ہفتوں سے جاری تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس دفاعی پیکج میں شامل اہم ٹھیکیداروں میں آر ٹی ایکس کارپوریشن، نارتھروپ گرومن اور لاک ہیڈ مارٹن جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…