تہران نے بحر ہند میں واقع امریکی اور برطانوی فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر دو بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کی رپورٹ کے مطابق ان میزائلوں کا ہدف ڈیاگو گارشیا کا اڈہ تھا، تاہم یہ میزائل اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی پہنچ دشمن کے تصور سے کہیں زیادہ دور تک ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے کو براہ راست جارحیت میں شرکت تصور کیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے برطانوی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر کسی ملک نے امریکہ کو مدد فراہم کی تو اسے تنازع کا حصہ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے تمام فوجی اڈے ایران کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے اب تک اپنی عسکری طاقت کا معمولی حصہ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر ایرانی انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران نے عالمی برادری کے کہنے پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ان کا ملک اپنی دفاعی کارروائیوں کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے شہری نقصانات کا ازالہ ضروری ہے، جبکہ کسی بھی مزید جارحیت کا بھرپور اور جامع جواب دیا جائے گا۔
میکسیکو صحافیوں کے لیے ایک بار پھر خطے کا خطرناک ترین ملک قرار پایا ہے۔…
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو بحفاظت گزارنے کے لیے…
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعرات کے روز ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو سے اہم…
واشنگٹن میں امریکی عدالت نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کی جانب سے تحریر کردہ…
امریکی امیگریشن بورڈ آف اپیلز نے کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محسن مہدوی کی ملک…