بھارت کی ایک عدالت نے کشمیری رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ان کے خلاف ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو ثابت قرار دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق آسیہ اندرابی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ اور انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کیس میں ان کی دو قریبی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی تیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ مقدمہ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے دائر کیا تھا جس میں آسیہ اندرابی پر ریاست کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ آسیہ اندرابی اپریل 2018 سے حراست میں ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی کارروائی سیاسی انتقام پر مبنی ہے اور اس میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
آسیہ اندرابی نے 1987 میں دختران ملت کی بنیاد رکھی تھی اور وہ طویل عرصے سے کشمیر کے سیاسی حقوق کی وکالت کے لیے جانی جاتی ہیں۔
کراچی میں پاکستان کے سرکردہ ونڈ انرجی پیدا کرنے والے اداروں کے کنسورشیم نے انڈیپنڈنٹ…
افغان طالبان نے ایک سال سے زائد عرصے تک زیر حراست رہنے والے امریکی ماہر…
اسلام آباد میں پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا آئندہ اجلاس 30 مارچ 2026…
وفاقی دارالحکومت میں ماحول دوست اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو فروغ دینے کے…
اوپن اے آئی نے اپنی ویڈیو جنریشن ایپ سورا کو بند کرنے کا اعلان کر…
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد پینٹاگون کی…