سوشل میڈیا کی لت: امریکی عدالت کا میٹا اور گوگل کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

لاس اینجلس کی جیوری نے ایک تاریخی فیصلے میں گوگل اور میٹا کو سوشل میڈیا کی لت سے متعلق مقدمے میں تین ملین ڈالر ہرجانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بدھ کے روز سنایا گیا یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف دائر ہزاروں دیگر مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے جو والدین، اٹارنی جنرلز اور اسکول ڈسٹرکٹس کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔

مقدمے کا مرکز بیس سالہ نوجوان خاتون تھی جس کا موقف تھا کہ ایپس کے ڈیزائن نے اسے کم عمری میں ہی نشے کی طرح ان پلیٹ فارمز کا عادی بنا دیا تھا۔ مدعیان نے اس مقدمے میں مواد کے بجائے پلیٹ فارم کے ڈیزائن پر توجہ مرکوز رکھی، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اپنی ذمہ داری سے بچنا مشکل ہو گیا۔

اس مقدمے میں اسنیپ اور ٹک ٹاک بھی فریق تھے، تاہم انہوں نے مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل ہی مدعی کے ساتھ تصفیہ کر لیا تھا۔ ان سمجھوتوں کی شرائط کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ فیصلے کے بعد میٹا اور الفابیٹ کے حصص میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور مارکیٹ پر اس کا اثر محدود رہا۔

میٹا کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ فیصلے سے متفق نہیں ہیں اور قانونی راستوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ گوگل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں اور نوعمروں کی حفاظت کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ اب یہ بحث عدالتوں اور ریاستی حکومتوں تک پہنچ چکی ہے۔

امریکی کانگریس اب تک سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی جامع قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس آف اسٹیٹ لیجسلیچرز کے مطابق، گزشتہ سال کم از کم بیس ریاستوں نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین نافذ کیے ہیں۔ ان قوانین میں اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی اور اکاؤنٹس کھولنے کے لیے عمر کی تصدیق جیسے اقدامات شامل ہیں۔

میٹا اور گوگل جیسی کمپنیوں کی حمایت یافتہ تجارتی تنظیم نیٹ چوائس عمر کی تصدیق کے تقاضوں کو عدالت میں چیلنج کر رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں سوشل میڈیا کی لت سے متعلق مزید مقدمات کی سماعت متوقع ہے۔ جولائی میں لاس اینجلس میں ایک اور ریاستی ٹرائل شروع ہونے والا ہے جس میں انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ نیو میکسیکو کی ایک جیوری نے منگل کے روز میٹا کو ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ یہ مقدمہ ریاست کے اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جس میں کمپنی پر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی حفاظت کے بارے میں صارفین کو گمراہ کرنے اور پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال میں سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ہینٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ ٹینریف پہنچ گیا، مسافروں کے طبی معائنے کا فیصلہ

ہینٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ کے شکار کروز شپ ایم وی ہونڈیئس نے اتوار کی…

39 منٹس ago

پاک فوج کا مقابلہ کوئی طاقت نہیں کر سکتی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان…

44 منٹس ago

ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کا شکار کروز شپ ٹینریف پہنچ گیا، مسافروں کا انخلا شروع

ہینٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ کا شکار ہونے والا کروز جہاز اتوار کی صبح ٹینریف…

50 منٹس ago

بنوں: پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی پولیس کی…

55 منٹس ago

امریکی ووٹرز میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے خلاف عدم اطمینان میں اضافہ، سروے رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی اور معاشی بحران سے نمٹنے کے اقدامات…

2 گھنٹے ago

کسی بھی جارحیت کے سنگین نتائج ہوں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سخت تنبیہ

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خبردار…

2 گھنٹے ago