تہران میں جمعرات کی شام ایرانی دارالحکومت پر اسرائیلی فضائی حملوں کے ستائیسویں روز کے دوران پاکستانی سفارت خانے اور سفیر مدثر ٹوپو کی رہائش گاہ کے قریب زوردار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ترکی ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کے قریب ہوئے تاہم خوش قسمتی سے سفارت خانے یا سفیر کی رہائش گاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہاں تعینات پاکستانی سفارتی عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔
اس واقعے کے وقت پاکستان، ترکی اور مصر کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین بالواسطہ مذاکرات کا عمل جاری ہے جس میں اسلام آباد ایک رابطے کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی متحرک کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی، مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے رابطے کیے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے تہران میں ہونے والے دھماکوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے اس نازک موڑ پر یہ مربوط سفارتی کوششیں پس پردہ مذاکرات اور بات چیت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
جنوبی چین کے شہر ژوہائی میں قائم ایک جدید ترین کارخانے نے امریکی صدر ڈونلڈ…
صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے خیرپور میں پیپلز بس سروس کی…
میرپور ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کی شکست محض ایک مایوس کن نتیجہ…
وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشیں…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی…
قومی اسمبلی نے منگل کے روز اینٹی ریپ ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی…