قومی اسمبلی نے منگل کے روز اینٹی ریپ ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت جنسی زیادتی، جسمانی تشدد اور بچوں کے استحصال کو ناقابل ضمانت جرائم قرار دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ متاثرہ بچوں کا طبی معائنہ 24 گھنٹے کے اندر مستند فرانزک ماہر سے کروائیں۔ نئے قانون میں متاثرین کی عزت، رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضوابط وضع کیے گئے ہیں جبکہ فرانزک شواہد کو تفتیش کا حصہ بنانا لازمی ہوگا۔ عدالتیں اب ایسے مقدمات میں ضمانت دینے سے گریز کریں گی اور صرف غیر معمولی حالات میں ہی بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت پر غور کیا جا سکے گا۔ عدالت کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ضمانت دینے سے قبل ملزم کی جانب سے متاثرہ بچے کو لاحق خطرات کا جائزہ لے۔
اسمبلی میں ایک اور اہم قانون سازی کے تحت فحش مواد کی فروخت، نمائش اور تقسیم پر سزاؤں میں نمایاں اضافے کا بل بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری کی دفعات 292، 293 اور 294 میں ترمیم کر کے فحش کتب، تصاویر، مجسموں اور دیگر مواد کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہے۔ سینیٹ سے منظور شدہ اس مسودہ قانون کے تحت فحش مواد کی فروخت یا نمائش کی سزا تین ماہ سے بڑھا کر دو سال قید اور دو لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔ تجارتی مقاصد کے لیے فحش اشیاء کی درآمد، برآمد یا نقل و حمل پر بھی دو سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
نئے قانون کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے فحش مواد کی تشہیر کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے جس پر دو سال قید اور دو لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ بیس سال سے کم عمر افراد کو فحش مواد دکھانے یا فروخت کرنے پر دو سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ عوامی مقامات پر فحش حرکات، نازیبا گانے گانے یا غلیظ زبان استعمال کرنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ایوان کو بتایا کہ ملک بھر میں اسکول نہ جانے والے تقریباً 26 ملین بچوں کی تعلیم کے لیے نو چائلڈ لیفٹ بیہائنڈ مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم میں گھر گھر سروے، ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام اور تکنیکی تعلیم کے ذریعے بچوں کی انرولمنٹ بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے تعاون سے دور دراز علاقوں تک تعلیمی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے۔
بلوچستان کے مدارس کو درپیش مسائل سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وجیہہ قمر نے کہا کہ حکومت بلوچستان سمیت ملک بھر کے مدارس کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجس ایجوکیشن کے ساتھ رجسٹر ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔ رجسٹرڈ مدارس کو اساتذہ کی تنخواہ، تکنیکی تعلیم کے مواقع اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید نصاب تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں آٹوموبائل کی صنعت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے اور اپریل 2026 کے…
اٹلی کی سیری اے فٹ بال لیگ میں نیپولی کو بولوگنا کے ہاتھوں دو کے…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ…
امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس…
کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ نیٹ ورک چلانے والی ملزمہ انمول عرف پنکی کو…
واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات سے قبل اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضائی حملوں کا…