امریکہ میں افراطِ زر تین سالہ بلند ترین سطح پر، سٹگفلیشن کا خدشہ

امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران جنگ کے باعث ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں تیزی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، امریکی محکمہ محنت نے بتایا کہ اپریل میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں صفر اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مارچ میں یہ شرح صفر اعشاریہ نو فیصد تھی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح یعنی تین اعشاریہ آٹھ فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے میں توانائی کی قیمتوں کا کردار نمایاں ہے جو کہ مجموعی ماہانہ اضافے کا چالیس فیصد سے زائد ہے۔ عالمی سطح پر جغرافیائی تناؤ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں پانچ اعشاریہ چار فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

غذائی اجناس کی قیمتوں میں بھی صفر اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں بیف کی قیمتوں میں دو اعشاریہ سات فیصد جبکہ پھلوں، سبزیوں اور ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خوراک اور توانائی کے علاوہ بنیادی مہنگائی میں بھی صفر اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ دو ہزار پچیس کے اوائل کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جہاں سے دنیا کا بیس فیصد تیل گزرتا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے، اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک موجودہ شرح کو برقرار رکھے گا۔

معروف سرمایہ کار اور برج واٹر ایسوسی ایٹس کے بانی رے ڈالیو نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت اب سٹیگفلیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مہنگائی بلند ہے جبکہ معاشی ترقی کی رفتار سست ہے۔ سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈالیو نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور جغرافیائی عدم استحکام فیڈرل ریزرو کے لیے پالیسی سازی کو مشکل بنا رہے ہیں۔

رے ڈالیو نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی نظام میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو میں سونے کی مقدار پانچ سے پندرہ فیصد تک بڑھانی چاہیے۔ اگرچہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کارپوریٹ آمدنی کے باعث فی الحال مستحکم دکھائی دے رہی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں تیزی آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کے استحکام کے لیے بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago