امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے اہداف زمینی فوج کا استعمال کیے بغیر حاصل کر سکتا ہے۔ پیرس میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکی کارروائی کا مقصد ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں، ہتھیار بنانے والی فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ ان کی بحری اور فضائی طاقت کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے اہداف کے حصول میں شیڈول سے آگے ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی زمینی دستے کی ضرورت نہیں ہے۔
خطے میں اضافی امریکی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہنگامی صورتحال میں ردعمل دینے کے لیے مزید آپشنز فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے آپریشنل تفصیلات بتانے سے گریز کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ صدر کو ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
مارکو روبیو نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں گزرنے والے جہازوں کے لیے ٹول ٹیکس کا نظام متعارف کروانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایشیائی اور یورپی ممالک، جو اس آبی گزرگاہ سے تجارتی فوائد حاصل کرتے ہیں، تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…