کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ ممکنہ عسکری تصادم کو ٹالنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے میامی میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران کیوبا کو اگلا ہدف قرار دینے کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں وینزویلا اور ایران میں امریکی عسکری کارروائیوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا اب اگلا نمبر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ انہوں نے ایک طاقتور فوج تعمیر کی ہے جسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن بعض اوقات اس کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے فوراً یہ بھی کہا کہ اس بیان کو نظر انداز کر دیا جائے۔
صدر ٹرمپ نے کیوبا میں معاشی بحران کے باعث حکومت کے خاتمے کی پیشگوئی کرتے ہوئے اسے دوستانہ یا غیر دوستانہ قبضے کا اشارہ دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں کیوبا کی قیادت کے ساتھ رابطے کیے گئے ہیں، جبکہ صدر کی جانب سے براہ راست فوجی کارروائی کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا گیا۔
کیوبا کو اس وقت شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ تیل کی درآمدات میں تعطل ہے۔ جنوری میں وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی معزولی سے قبل کیوبا اپنی تیل کی ضروریات کے لیے وینزویلا پر انحصار کرتا تھا، تاہم واشنگٹن کے دباؤ کے بعد اب یہ ترسیلات بند ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے خلاف حالیہ عسکری کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔
پیرس میں ہفتے کی صبح بینک آف امریکہ کی عمارت کے باہر ایک ممکنہ بم…
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب…
کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے…
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور مبینہ آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف آج ملک…
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے…