میڈرڈ نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں ملوث امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نہ صرف مشترکہ فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ اب امریکی طیاروں کے لیے ملکی فضائی حدود بھی بند کر دی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ ہسپانوی حکومت کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ کسی بھی ایسی جنگ میں شرکت یا تعاون سے گریزاں ہے جسے وہ یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ ہسپانوی وزیر اقتصادیات کارلوس کوئیرپو نے مقامی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے اصولی موقف کا حصہ ہے اور اس کا مقصد جنگی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کا حصہ نہ بننا ہے۔
ہسپانوی اخبار ایل پائیس کے مطابق اس پابندی کے بعد امریکی فوجی طیارے مشرق وسطیٰ میں اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے نیٹو رکن ملک اسپین کی حدود سے گریز کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تاہم اس پابندی کا اطلاق ہنگامی صورتحال پر نہیں ہوگا۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مخالفت کر چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کی جانب سے فوجی اڈوں کے استعمال پر پابندی کے جواب میں میڈرڈ کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…