آسٹریلیا: 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کی خلاف ورزی پر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف کارروائی

آسٹریلوی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ان ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے تصدیق کی ہے کہ میٹا کے انسٹاگرام اور فیس بک، گوگل کے یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات انیکا ویلز نے کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شواہد اکٹھے کر رہی ہے تاکہ ای سیفٹی کمشنر وفاقی عدالت میں کیس لڑ کر اسے جیت سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے تکنیکی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر پابندیوں کو چکمہ دے رہے ہیں۔

قانون کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم عمر صارفین کو روکنے کے لیے معقول اقدامات کر رہے ہیں۔ ان ضوابط کی خلاف ورزی پر کمپنیوں کو فی خلاف ورزی ساڑھے 49 ملین آسٹریلوی ڈالر یعنی تقریباً 34 ملین امریکی ڈالر تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ کیس سول عدالت میں چلایا جائے گا۔

ای سیفٹی کمشنر جولی انمین گرانٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ریگولیٹر اب نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں پلیٹ فارمز کی جانب سے کیے گئے اقدامات غیر تسلی بخش پائے گئے ہیں اور اس معاملے پر حتمی فیصلہ رواں سال کے وسط تک کیا جائے گا۔

ریگولیٹر کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایسے نظام بنائے ہیں جن میں بچے بار بار عمر کی تصدیق کے ٹیسٹ دے سکتے ہیں جب تک کہ وہ سولہ سال سے زائد عمر ظاہر نہ کر لیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے پلیٹ فارمز سائن اپ کے وقت عمر کی تصدیق کے بجائے بعد میں اقدامات کرتے ہیں، جس سے کم عمر بچوں کے لیے جعلی تفصیلات کے ساتھ اکاؤنٹ بنانا آسان ہو گیا ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق، تقریباً ایک تہائی والدین نے تسلیم کیا کہ پابندی کے نفاذ کے بعد بھی ان کے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے پاس سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود ہیں۔ ان میں سے دو تہائی والدین کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارمز نے بچوں سے ان کی عمر کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔

دوسری جانب میٹا اور اسنیپ چیٹ نے پابندی پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی گئی عمر کی تصدیق کی آزمائشوں میں بھی تکنیکی غلطیوں کی گنجائش موجود رہی ہے۔ ٹک ٹاک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ گوگل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دنیا بھر کی حکومتیں آسٹریلیا کے اس اقدام کو غور سے دیکھ رہی ہیں تاکہ بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات بشمول غنڈہ گردی اور جسمانی ساخت پر تنقید سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی: وزیر داخلہ محسن نقوی کی نادرا کو معاونت کی ہدایت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے…

17 منٹس ago

امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششیں شدید چیلنجز سے دوچار

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی…

22 منٹس ago

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1800 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ…

27 منٹس ago

پوپ کے بیان پر وائٹ ہاؤس کا امریکی فوجیوں کے لیے دعاؤں کا دفاع

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے امریکی فوجیوں کے لیے دعائیں کرنے کے عمل کا دفاع…

1 گھنٹہ ago

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: پاکستان بھر میں 62 پروازیں منسوخ

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان بھر میں فضائی آپریشن بری طرح متاثر…

1 گھنٹہ ago

ہیری پوٹر سیریز: پہلے سیزن کی ریلیز سے قبل ہی دوسرے سیزن پر کام شروع

ایچ بی او نے ہیری پوٹر سیریز کے پہلے سیزن کی ریلیز سے قبل ہی…

1 گھنٹہ ago