امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششیں شدید چیلنجز سے دوچار

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کوششیں شدید چیلنجز کا شکار ہیں۔ ایک غیر ملکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران میں شہری تنصیبات پر حملوں اور خلیج میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے منصوبوں نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسلام آباد اس صورتحال میں ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں براہ راست ملوث نہ ہونا اور امریکی فوجی اڈوں کی عدم موجودگی پاکستان کو دونوں فریقین کے لیے ایک قابل قبول مقام بناتی ہے۔

پاکستان کے عسکری سربراہ جنرل عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات اور حالیہ برسوں میں تہران کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات اسلام آباد کو دونوں جانب رسائی فراہم کرتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق تہران اور واشنگٹن دونوں مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں تاہم باہمی عدم اعتماد اور بڑھتی ہوئی کشیدگی بڑی رکاوٹیں ہیں۔

پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ اسرائیل اس سفارتی عمل کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کے دو بڑے اسٹیل پلانٹس، شہری جوہری مراکز اور دو یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا۔ سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ غیر متوقع فیصلے کرنے والے رہنما ہیں۔

ایران صرف جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت چاہتا ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے جسے امریکہ نے مسترد کر دیا ہے۔ تاہم پاکستان دونوں فریقین کے درمیان تجاویز کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا ہے اور جلد اسلام آباد میں ترکی، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ چاروں ممالک ایک نئے علاقائی اتحاد کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

مذاکرات بالواسطہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ تہران واشنگٹن کے ساتھ براہ راست ملاقات سے انکاری ہے۔ پاکستان نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں، جس پر تہران نے بظاہر رضامندی ظاہر کی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں پاکستان کو اپنے مفادات اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان اس تنازع میں الجھنے سے گریزاں ہے اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

امریکی حراستی مرکز میں میکسیکن تارکِ وطن کی ہلاکت، رواں برس مرنے والوں کی تعداد 14 ہو گئی

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایڈی لینٹو امیگریشن حراستی مرکز میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والا…

44 منٹس ago

اسلام آباد ہائی کورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور…

49 منٹس ago

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آٹے کی قیمت میں 250 روپے اضافے کا مطالبہ

پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ فلور ملز مالکان…

54 منٹس ago

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ نرخ 4 لاکھ 78 ہزار سے تجاوز کر گئے

مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے…

59 منٹس ago

غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی: وزیر داخلہ محسن نقوی کی نادرا کو معاونت کی ہدایت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے…

2 گھنٹے ago

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1800 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ…

2 گھنٹے ago