ماسکو سے شاہد گھمن کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی نظام تیزی سے زوال پذیر ہے اور دنیا ایک بڑی جغرافیائی اور سیاسی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانا عالمی ڈھانچہ ٹوٹ رہا ہے اور ایک نئے نظام کے قیام کے لیے شدید مسابقت جاری ہے۔
روسی کونسل برائے بین الاقوامی امور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ عالمی نظام کی تشکیل نو کا مقصد ایک منصفانہ اور مستحکم کثیر الجہتی دنیا کا قیام ہے لیکن موجودہ پیش رفت منظم تبدیلی کے بجائے ہر لحاظ سے انتشار کی عکاس ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے عالمی طاقتوں کی کشمکش کو زندگی اور موت کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ ممالک بلا جواز علاقائی دعوے کر رہے ہیں جو عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔
مغربی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو برابری اور باہمی مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے اتحادوں کو ان طاقتوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے جو اپنی بالادستی برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں۔ انہوں نے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔ لاوروف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے تنقید کی کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ میں امریکی اور اسرائیلی اقدامات رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
مردان کے علاقے رستم میں سنگ مرمر کی کان گرنے سے سات افراد جاں بحق…
برطانیہ کے بادشاہ چارلس اپریل کے آخر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کریں گے، جس…
جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج یونیفل کے تین انڈونیشی اہلکار دو…
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے…
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے…
غزہ کی پٹی میں منگل کے روز اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از…