تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ترجمان نے ٹرمپ کے بیان کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔
جنگ کو پانچواں ہفتہ شروع ہو چکا ہے اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید دباؤ ہے۔ اس صورتحال میں امریکی صدر نے آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے قوم سے خطاب کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر نے نیٹو سے انخلا کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحادیوں نے ضرورت کے وقت ساتھ نہیں دیا اور یہ اتحاد ایک یکطرفہ عمل بن چکا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حتمی وقت تو نہیں بتا سکتے تاہم امریکی فوج جلد از جلد ایران سے نکل جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران اب جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا دوبارہ محدود اور ٹارگٹڈ حملے کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی فضائی حملوں میں ہلاکت کے بعد اب نئے قیادت کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران میں حکومت کی تبدیلی جنگی نقصانات کا نتیجہ ہے اور اب وہ ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں سے ایران کے ساتھ ڈیل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں تھا لیکن اب یہ حقیقت ہے اور ایران اب جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…